نئی دہلی، 24 جون (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) گجرات میں راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر کانگریس کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے حلف نامہ داخل کیا ہے الیکشن کمیشن نے دو سیٹوں پر الگ الگ انتخابات کرانے کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ امت شاہ اور اسمرتی ایرانی طرف سے خالی کی گئی سیٹوں پر الگ الگ انتخابات کرانا قانون کے مطابق ہے۔الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ 57 سالوں سے دہلی ہائی کورٹ اور بمبئی ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق یہ انتخابات کرتا آیا ہے۔الیکشن کمیشن پہلے ہی خالی جگہوں کے لئے الگ الگ انتخابات کرتا آیا۔جب کسی رکن کی راجیہ سبھا کی رکنیت کی مدت ختم ہوتی ہے تو وہ ریگولر ویکنسی ہوتی ہے جس کے لئے ایک ساتھ ہی الیکشن کرایا جاتا ہے۔الیکشن کمیشن نے دہلی ہائی کورٹ کے 2009 کے ستیہ پال ملک کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا ہے جس میں ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ کیجول ویکنسی کو الگ الگ انتخابات مکمل ہو جائے گا۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا تھا۔گجرات کانگریس کے اپوزیشن لیڈر پریش بھائی دھنانی نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر دو سیٹوں کے لئے جاری الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا ہے امت شاہ اور اسمرتی ایرانی کے خالی کی گئی سیٹوں پر ایک ساتھ انتخابات کرانے کی مانگ کی گئی ہے درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی دن دونوں سیٹوں پر الگ الگ انتخابات کرانا غیر آئینی اور آئین کی روح کے خلاف ہے۔گجرات سے راجیہ سبھا میں خالی ہوئی دو سیٹوں پر پانچ جولائی کو انتخابات ہوں گے۔ دراصل الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق امت شاہ کو لوک سبھا انتخابات جیتنے کا سرٹیفکیٹ 23 مئی کو ہی دے دیا گیا تھا، جبکہ اسمرتی ایرانی کو 24 مئی کو ملا۔اس سے دونوں کے انتخابات میں ایک دن کا فرق ہو گیا۔اسی بنیاد پر کمیشن نے ریاست کی دونوں سیٹوں کو الگ الگ سمجھا ہے، لیکن انتخابات ایک ہی دن ہوں گے۔ایسا ہونے سے اب دونوں سیٹوں پر بی جے پی کو فتح مل جائے گی۔